Wednesday, 4 April 2018

Peace after death

No one is going to provide you a favour
You must have to fulfill interests of all
of your near and dear ones. lt s a
bitter reality that we can face hate.
negligence or bad behaviors of all
possible kinds from our blood relations
too if we don't care their interests first.
Life we spend actually is based on the
decisions of other people. Our duty is
to remain calm, honest and sincere so
as to get peace after death.
🌟 🌟 🌟
Muhammad Haris

Sunday, 28 January 2018

دنیا کی چاہت

ﺣﻀﺮﺕ ﻋﯿﺴﯽٰؑ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﯾﮏ ﺷﺎﮔﺮﺩ ﮐﻮ ﺳﺎﺗﮫ ﻟﮯ ﮐﺮ ﮐﺴﯽ ﺳﻔﺮ ﭘﺮ ﻧﮑﻠﮯ، ﺭﺍﺳﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺟﮕﮧ ﺭﮐﮯ ﺍﻭﺭ ﺷﺎﮔﺮﺩ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮧ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺟﯿﺐ ﻣﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﮨﮯ؟
ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﺩﻭ ﺩﺭﮨﻢ ﮨﯿﮟ۔
ﺣﻀﺮﺕ ﻋﯿﺴﯽؑ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﯿﺐ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺩﺭﮨﻢ ﻧﮑﺎﻝ ﮐﺮ ﺍﺳﮯ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﯾﮧ ﺗﯿﻦ ﺩﺭﮨﻢ ﮨﻮﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ، ﻗﺮﯾﺐ ﮨﯽ ﺍٓﺑﺎﺩﯼ ﮨﮯ ،ﺗﻢ ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﺗﯿﻦ ﺩﺭﮨﻤﻮﮞ ﮐﯽ ﺭﻭﭨﯿﺎﮞ ﻟﮯ ﺍٓﺋﻮ۔
ﻭﮦ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺗﯿﻦ ﺭﻭﭨﯿﺎﮞ ﻟﯿﮟ،ﺭﺍﺳﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﭼﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﯿﺴﯽٰؑ ﻧﮯ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ ﺩﺭﮨﻢ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ ۔ ۔ ۔ (تفصیل ویڈیو میں)

Thursday, 4 May 2017

Ghazal غزل

کہنے کو کُچھ چہرے بڑے کھلے رہتے ہیں
دل مگر سدا خوشیوں سے پرے رہتےہیں
کسی کے آزمانے سے ہم کبھی نہیں چونکے
تعلق توڑنے کے بہانوں سے ڈرے رہتے ہیں
دل ہمارا پتھر اور انجام پتھر کا ہے ٹوٹنا
بنے موم کے جو ہوں وہی جُڑے رہتے ہیں
وہی مسافر ٹھہرے مل گئیں جنھیں منزلیں
راستہ جو بھٹکے ' ماندِ پیڑ کھڑے رہتے ہیں
ضروری نہیں بقا منسوب ہو صرف بہار سے
پتے خزاں میں بھی کُچھ ہرے رہتے ہیں
آنسو جب نکل پڑیں تو ہوتی ہے رسوائ اور
آستین کھینچے اپنی اب ہم ڈرے رہتے ہیں
حارث الزامِ بے وفائ نہ لگایا جاۓ کسی پر
بھول جاتا ہے خدا یہاں لوگ کہاں یاد رہتے ہیں
~ حارث
kehny ko kuch chehray bary khilay rehtay hain
dill magar sad'aa khushyun say pary rehtay hain
kisi k a'azmanay say hum kabhi nahi chonkay
Ta'auluq tornay ky bahanu'n say dary rehtay hain
dill hmara pathar or anjaam pathar ka hai totna
banay moom ky jo hun wohi jurray rehtay hain
wohi musaafir tehray mil gai'n jinhayn manzilayn
rasta jo bhatkay ' manid e pair kharay rehtay hain
zarori nahi baqa'a mansoob ho sirf bahar sy
pattay khaza'n mei bhi kuch haray rehtay hain
aanso jub nikal parein to hoti hai raswai or
aastin khainchay apni ab hum darey rehtay hain
Haris ilzam e bewafai na lagaya jaye kisi per
bhol jata hai Khuda yahan log kahan yad rehtay hain
- Haris
(Haris Writes)

Saturday, 29 April 2017

غم

جِس کا غم اُسی کا غم لوگ تو نکالیں ہیں دم
خوشی بھی اُسکوجِسکی خوشی بھولےاپناکیسےغم
~ حارث
Jiss Ka Gham Ussi Ka Gham Log To Nikalyn Hain Dam
Khushi Bhi Uss Ko Jiss Ki Khushi Bholy Apna Kaisy Gham
- H@ris

Tuesday, 27 December 2016

ﯾﺎﺩﯾﮟ - Memories

ﮐﮩﺎﮞ ﺩﻥ ﮔﺌﮯ ﻭﮦ
ﮐﮩﺎﮞ ﻭﮦ ﺭﺍﺗﯿﮟ ﮔﺌﯿﮟ
ﻭﮦ ﺭﻭﺯ ﻣﻠﻨﺎ ﺳﺐ ﮐﺎ
ﮐﮩﺎﮞ ﻭﮦ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﮔﺌﯿﮟ
ﮐﯿﻮﮞ ﺳﺐ ﺑﭽﮭﮍ ﮔﺌﮯ
ﮐﮩﺎﮞ ﻭﮦ ﻣﻼﻗﺎﺗﯿﮟ ﮔﺌﯿﮟ
ﯾﺎﺩ ﺁﺗﺎ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺳﻨﺎ ﻭﮦ ﮐﮩﺎ
ﮐﮧ ﺍِﮎ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﻮ ﺑﮭﻮﻟﯿﮟ ﮔﮯ ﻧﮩﯿﮟ
ﮐﻮﻥ ﮐﮩﺎﮞ ﮐﮭﻮ ﮔﯿﺎ
ﺍﺏ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺧﺒﺮ ﻧﮩﯿﮟ
ﺗﻐﯿﺮ ﺛﺒﺖ ﮨﮯ ﮨﺎﮞ ﻣﺎﻧﺎ ﻣﮕﺮ
ﮨﻮﺍ ﯾﮧ ﺳﺐ ﮐﯿﺴﮯ ' ﺑﮭﻮﻟﮯ ﮔﺎ ﻧﮩﯿﮟ
ﺩُﻭﺭﯾﺎﮞ ﺗﺐ ﺍﻓﺴﺎﻧﮧ ﻟﮕﺘﯽ ﺗﮭﯿﮟ
ﺍﺣﺴﺎﺱ ﺁﺝ ﮨﻮﺍﺟﺐ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﺑﻦ ﮔﺌﯿﮟ
ﻭﮦ ﭘﻞ ﺗﮭﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﻧﻈﺮﻭﮞ ﮐﮯﺳﺎﻣﻨﮯﺣﺎﺭﺙ
ﯾﺎﺩ ﺁﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﮐﮧ ﺍﺏّ ﯾﺎﺩﯾﮟ ﺑﻦ ﮔﺌﯿﮟ
✍ : ﻣﺤﻤﺪﺣﺎﺭﺙ

Wednesday, 21 December 2016

پهول - Flowers

خود ہی توڑ دیتے ہو پھول گلشن سے سارے
پھر گلہ بھی کرتے ہو ' آتی نہیں ابّ تتلیاں

Tuesday, 20 December 2016

کهانی - Story

کهانی



 جب میں چھوٹا بچہ تھا
سکول اپنے جب پڑھتا تھا
محنت بہت میں کرتا تھا
دوسرے بھی تب بچے تھے
پر کھیل کود و ہ کرتے تھے
بَڑا کُچھ پانے کی حسرت لیے
میں نہ و ہ سب کرتا تھا
محنت بہت میں کرتا تھا
چُھٹی آدھی جب ہوتی تھی
دُکان سکول کی جب کُھلتی تھی
میدان میں بچے نکلتے تھے
کھیل کُود سب کرتے تھے
ہَنسی مذاق وہ کرتے تھے
ہاں بہت زیادہ وہ کرتے تھے
میں اچھا دکھنا چا ہتا تھا
سُلجھا دِکھنا چاہتا تھا
میں نہ و ہ سب کرتاتھا
لکھنا ' پڑ ھنا ہی تھا سب میرا
محنت بہت میں کرتا تھا
سکول میں ہوتاجب امتحان کوئی
ہاں درجہ اوّل میں آتا تھا
سب کو پھر میں بھاتا تھا
سب کی آنکھ کا تارہ تھا
خود بھی شائید خُوش ہوتا تھا
معلوم نہیں اَبّ مُجھ کو
پایا کیا تھا اُن لَمحوںمیں
آج مگر یہ جانا ہے
سَب کُچھ ہی تو کُھویا تھا
وَقتی خوشیوں کی خاطر
کُھودیا وہ بچپن پیارا
خوشیوں کا سرمایہ سارا
پُھول تھا یہ یوں مُرجھایا
نہ رہاجب تتلی کا سایہ
گُزرا بچپن یُوں ہی سارا
اِک انجانی نا دانی میں
رکھا جب قدم جوانی میں
دُوہرائی غلطی پھر نا دانی میں
کی جو بیاں اوّل کہانی میں
سمجھ نہیں میں پایا ہوں
گُزار اتنے برس آیا ہوں
کَرتے ہیں جو محنت بچے
رہتے نہیں کیوں ہمیشہ اچھے
قسمت کا بھی اِک کھیل یہاں
جو بنتی بگڑتی  رہتی یہاں
ابّ تک کی یہ اپنی کہانی ہے
سمجھ سب کو نہیں  آنی ہے
دل ہی کو بس سنانی ہے
وہیں پر اِک کوئی رہتاہے
وہی اِک سب کی سنتا ہے
بھیگی پلکیں اَبّ چھپانی ہیں
خود کو یہ بات سمجھانی ہے
زندگی یہ عجب کہانی ہے
زندگی یہ عجب کہانی ہے
 - حارث